اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل جمعہ کی شام آل سعود اور آل خلیفہ کی قابضین و غاصبین کے غنڈوں نے سترہ کے علاقے کے ایک گھر میں لاتعداد آنسو گیس نیز زہریلی گیس شیل فائر کئے جس کے نتیجے میں محترمہ شہیدہ زینب حسن آل جمعہ کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر شہید ہوگئیں۔ اس بات کی وضاحت ضروری نہیں ہے کہ گیس سڑکوں پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن آل سعود اور آل خلیفہ کے غنڈے اب تک متعدد گھروں کو آنسو گیس کے گولوں اور صوتی بموں کا نشانہ بنا چکے ہیں جن سے عورتوں اور بچوں سمیت کئی افراد کی شہادت واقع ہوئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایک طرف سے آل خلیفہ کے غاصب حکمران قومی مذاکرات کے دعوے کررہے ہیں لیکن دوسری طرف سے عوام کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آل سعود اور آل خلیفہ کے غنڈوں نے یہ حملہ ہیلی کاپٹروں سے کیا اور بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں سے بڑی مقدار میں زہریلی گیس ان کے گھر میں پھینکی گئی۔ جمعيۃ الوفاق الاسلامی کے راہنما ابراہیم المدہون نے کہا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود بحرینی عوام کے خلاف ایسی گیسیں استعمال کررہے ہیں جن کا استعمال عالی سطح پر ممنوع ہے۔ابراہیم المدہون کا یہ موقف درحقیقت اس سوال کا جواب ہے کہ آنسو گیس سے لوگ شہید کیوں ہورہے ہیں۔ بحرین کی انسانی حقوق کمیٹی کے صدر ڈاکٹر نبیل رجب نے آج ذرائع کو بتایا کہ گذشتہ روز آل خلیفہ اور آل سعود کے حملے کا نشانہ بننے والی 47 سالہ شیعہ خاتون زینب حسن آل جمعہ شہید ہوئی تھیں۔شہیدہ زینب آل جمعہ جزیرہ سترہ کے علاقی "مہزہ" کی رہائشی تھیں اور انھوں نے دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔شہیدہ زینب حسن آل جمعہ کے اہل خاندان ان کے جنازے پر سوگوار کھڑے ہیں قابل ذکر ہے کہ اس خاتون کی شہادت کے ساتھ بحرینی انقلاب کے شہداء کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110